ابو عُبیدہ کون تھا؟ - اردو ناول

Breaking

بدھ, دسمبر 31, 2025

ابو عُبیدہ کون تھا؟



ابو عُبیدہ کون تھا؟


عسقلان 


ابو عُبیدہ کون تھا؟


عسقلان ارض مقدس کا وہ تاریخی شہر ہے، جس کا نام جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوا ہے اور پھر اس شہر نے ابن حجر عسقلانیؒ جیسی نابغہ روزگار شخصیت کو جنم دے کر شہرت دوام حاصل کی ہے، مگر دجال نے عسقلان پر قبضہ کر کے اس کا نام بدل کر اشکلون رکھ دیا۔ یہیں الکحلوت نامی خاندان زمانہ قدیم سے مقیم تھا۔ اپنے جدی پشتی گھر میں۔ مگر 48 میں نکبہ کے دوران الکحلوت کو یہاں سے ہجرت کرنا پڑی۔ اپنے گھر، کھیت اور یادیں چھوڑ کر یہ لوگ غزہ کے جبالیا مہاجر کیمپ میں بس گئے۔ ان میں سمیر الکحلوت بھی تھے۔ جہاں فلسطینی مہاجرین کی زندگی خیموں، تنگ گلیوں اور مسلسل مشکلات سے بھری تھی۔ یہیں 11 فروری 1984ء کو سمیر الکحلوت کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا، جس کا نام حذیفہ الکحلوت رکھا گیا۔ اپنی چھوٹی سی عمر میں ہی اس نے وہ بوجھ اٹھا لیا تھا، جو بعد میں اس کی شخصیت اور مزاحمتی زندگی کی بنیاد بن گیا۔ کسے معلوم تھا کہ یہ بچہ مستقبل میں ایک عظیم شخصیت بن کر ابھرے گا، جب یہ بولے گا تو دنیا ہمہ تن گوش ہو کر سنا کرے گی۔ یہی وہ بچہ ہے، جسے ہم سب ابو عبیدہ کے نام سے جانتے ہیں۔


بچپن اور جبالیا میں پرورش


حذیفہ سمیر الكحلوت کا بچپن جبالیا کی مہاجر خیمہ بستی میں گزرا۔ یہاں کی تنگ گلیاں، محدود وسائل اور روزمرہ کے چیلنجز نے اس کی روح کو مضبوط بنایا۔ مہاجر کیمپ کی زندگی اک جہد مسلسل کا نام ہے، ہر قدم پر صبر اور امید کی روشنی جہاں ہمیشہ مدھم۔ کھلی زمینوں کی جگہ خیموں کی قطاریں، کھیلنے کی جگہ خوف، گلیوں میں بجلی کم اور حوصلے زیادہ۔ یہی وہ خاک تھی، جس نے نوجوان حذیفہ کی سوچ کو جلا بخشی اور اسے مستقبل کے لیے مضبوط بنایا۔ خاندانی تربیت میں قرآن و سنت کی اہمیت نے اسے ابتدائی عمر سے ہی ایک مضبوط دینی بنیاد دی۔ اپنے آس پاس کے بزرگوں سے امن، خدمت اور قربانی کے اسباق سیکھے۔ اس کے والد، سمیر الكحلوت خود ایک شریف اور دیندار شخصیت تھے، انہوں نے اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم اور اخلاقیات کا سبق دیا۔ حذیفہ نے چھوٹی عمر میں قرآن حفظ کرنا شروع کیا اور اس کی فطری ذہانت اور یادداشت نے اسے جلد ہی نمایاں کر دیا۔


یہاں کے ماحول نے حذیفہ کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔ جبالیا کی خیمہ بستی میں، جہاں ہر دن بقا کی جنگ تھی، حذیفہ نے جانا کہ زندگی میں ثابت قدمی، صبر اور قربانی کی کتنی اہمیت ہے۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ اس کے اردگرد کی زمینیں کبھی آباد تھیں، کبھی اجاڑ دی گئی تھیں، لیکن لوگ اپنے ایمان اور حوصلے سے جینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ منظر اس کے دل و دماغ میں نقش ہو گئے اور مستقبل میں اس کی مزاحمتی سوچ کی بنیاد بنے۔


تعلیمی سفر


تعلیم کے لیے حذیفہ نے مقامی مدارس اور پھر جامعہ اسلامیہ غزہ میں داخلہ لیا۔ یہاں اس نے نہ صرف دینی علوم بلکہ تاریخ، عقیدہ اور فلسطینی مسئلے کی جڑوں پر بھی گہرا مطالعہ کیا۔ 2013ء میں اس نے اسلامی یونیورسٹی غزہ سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور اس کی تحقیق کا موضوع تھا: “زمین مقدس: یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے درمیان تاریخی تعلق”۔ یہ مضمون اس کی فکر کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ صرف جنگی یا میڈیا رہنما نہیں، بلکہ ایک سوچنے والا اسکالر بھی تھا، جو اپنی قوم کی تاریخ اور مذہبی حقائق کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ بعد میں پی ایچ ڈی کے لیے بھی داخلہ لیا۔ لیکن مزاحمتی جدوجہد میں مشغولیت کی وجہ سے یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ مگر اس کے باوجود حذیفہ کی علمی شخصیت نے اسے دیگر نوجوانوں سے ممتاز کیا۔ اس کی تحریری اور تقریری صلاحیتیں اس وقت بھی نمایاں تھیں۔ تعلیمی اداروں میں اس کے استاد اس کے لب و لہجے، صاف گوئی اور دلائل کے ساتھ بحث کرنے کی صلاحیت کے مداح تھے۔ انہی خصوصیات نے بعد میں اس کے میڈیا اور مزاحمتی جدو جہد میں کلیدی کردار ادا کیا۔


مزاحمتی سفر کی ابتدا


حذیفہ نے اپنی نوجوانی میں ہی مزاحمت کے راستے کا انتخاب کیا۔ 2002ء میں اسے الق،،،ام میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ یہاں اس نے نہ صرف عملی مزاحمت میں حصہ لیا بلکہ جلد ہی اس کی ذہانت اور فصاحت نے اسے میڈیا اور اطلاعات کے شعبے میں ممتاز کر دیا۔ اسے "ابو عبیدہ" کے لقب سے پکارا گیا، جو جنتی صحابی فاتح القدس، سیدنا ابو عبیدہ عامر بن الجراح رضی اللہ عنہ کی یادگار تھا۔ یہ نام اسے نہ صرف ایک مزاحمتی رہنما کے طور پر شناخت دیتا تھا بلکہ فلسطینی عوام میں بھی اس کی قدر و منزلت بڑھاتا تھا۔


ابو عبیدہ کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ ہمیشہ پس پردہ رہتا، خود کو نمایاں نہیں کرتا، ابتدائی دور میں وہ کالا نقاب پہنتا، بعد میں لال دھاریوں والا کوفیہ اس کی پہچان بن گیا۔ اس کی باتیں، بیانات اور میڈیا میں پیش کردہ موقف دنیا بھر کے لوگوں کے لیے رہنما اور علامت بنتے۔ اس کا چہرہ کبھی منظر عام پر نہیں آتا تھا، مگر اس کی آواز اور الفاظ ہر فلسطینی کے دل میں پہنچتے تھے۔ وہ سمجھتا تھا کہ حقیقی طاقت انفرادی شہرت میں نہیں، بلکہ قوم اور مقصد کے لیے قربانی میں ہے۔ 


میڈیا اور عوامی شناخت


ابو عبیدہ کی شہرت 2004ء کے اوائل میں پہلی بار سامنے آئی، جب اس نے ایک ویڈیو کے ذریعے فلسطینی عوام کو اسرائیلی جارحیت کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس نے ہمیشہ اپنی بات میں احتیاط اور دانشمندی اختیار کی، مگر ہر لفظ میں درد اور جدوجہد کا احساس جھلکتا تھا۔ جون 2006ء میں "عملية الوهم المتبدّد" کے دوران اس نے پہلی بار عوام کے سامنے اپنی شناخت قائم کی، جس میں دو اسرائیلی فوجیوں کے قتل اور جلعاد شالیط کے اغوا کا اعلان کیا گیا۔ اس کی یہ تقریر اور میڈیا پیشکش فلسطینی عوام کے لیے امید اور مزاحمت کی علامت بن گئی۔ ان کی شہادت کا اعلان ہونے کے بعد الجزیرہ سمیت متعدد چینلز نے یہ ویڈیو آج پھر نشر کی۔ پھر حالیہ طوفان میں اس کی شہرت چار دانگ عالم میں پھیل گئی۔ بچے اس کی نقالی کرنے لگے۔ اس کی نقاب پوش تصویر اک علامت بن گئی۔ مزاحمت اور صبر واستقامت کی مضبوط علامت۔ دنیا بھر کے وہ لوگ جن کے دل قضیہ قدس کے ساتھ دھڑکتے ہیں، وہ بے تابی اس نقاب نقاش کے نئے بیان کا انتظار کرتے۔ اِدھر وہ لب ہلاتا، اُدھر میڈیا میں شہ سرخی بن جاتی۔


اصولاً وہ بیانات اور میڈیا حکمت عملی میں مہارت رکھتا تھا، وہ الفاظ سے کھیلنے کا ہنر بخوبی جانتا تھا گویا وہ تعبیر کا جادوگر تھا۔ ایک ایسا چہرہ جو جنگی محاذ میں ہمیشہ خود کو چھپائے رکھتا مگر لفظی محاذ پر ہمیشہ سب سے آگے ہوتا۔ ابو عبیدہ نہ صرف مزاحمتی بیانات میں نمایاں تھا بلکہ اس نے میڈیا کے ذریعے فلسطینی عوام کے حوصلے بلند کیے۔ اس کی تقریروں اور بیانات کی صداقت اور تاثیر اتنی مضبوط تھی کہ اسرائیلی میڈیا بھی اسے معتبر سمجھتا تھا۔ اس کے بیانات میں کبھی مبالغہ آرائی نہیں ہوتی، نہ ہی حقائق چھپائے جاتے، بلکہ ہر بیان میں درست معلومات اور اخلاقی اصولوں کا امتزاج ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف فلسطینی عوام میں بلکہ عرب دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ایک قابل احترام شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا۔


خاندان اور ذاتی زندگی


ابو عبیدہ کی ذاتی زندگی انتہائی نجی رہی۔ وہ چار بچوں کے والد تھے: لیان، منة الله، یمان، اور ابراہیم۔ اس کی بیوی اور بچوں کے ساتھ تعلق محبت اور تربیت پر مبنی تھا۔ بچوں کو قرآن کی تعلیم دی اور وہ دینی اور اخلاقی تربیت سے مزین کیا۔ حذیفہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتا کہ ہر مؤمن کے دل میں اللہ کے لیے ایک خفیہ جگہ ہونی چاہیے، جسے کوئی نہ جان سکے اور یہی اصول اس کی اپنی زندگی میں بھی نظر آتا تھا۔


مزاحمتی کارنامے اور خطرات


حذیفہ کی زندگی مسلسل خطرات اور اسرائیلی ہدف میں رہی۔ 2002ء سے 2025ء تک وہ بارہا اسرائیلی فوج کی کوششوں کے باوجود محفوظ رہا۔ اس کے گھر، محلہ اور مخفی مقامات پر متعدد حملے ہوئے، مگر وہ ہمیشہ ثابت قدم رہا۔ اس کی تقریریں، میڈیا پیشکش اور مزاحمتی حکمت عملی فلسطینی عوام کے لیے مشعل راہ بنیں۔ اس کی شہرت میں اضافہ 2020ء میں اسرائیل کے مغربی کنارے اور غورفاضل کے ضم کرنے کے فیصلے کے بعد ہوا، جب اس نے ایک ویڈیو بیان میں واضح کیا کہ فلسطینی مزاحمت ہر اقدام کا جواب دے گی۔ اس کی تقریریں ایک قوم کے حوصلے کو بڑھانے اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کا ذریعہ بنیں۔



شہادت اور اس کا اثر


30 اگست 2025ء کو اسرائیلی فوج نے ایک فضائی حملے میں ابو عبیدہ کو شہید کر دیا۔ حملے میں اس کی بیوی اور سارے بچے بھی شہید ہوگئے۔ سوائے ایک بیٹے ابراہیم کے۔ دجال نے اسی دن شہادت کا اعلان کیا تھا۔ مگر مزاحمت نے کوئی آفیشل بیان جاری نہیں کیا۔ اس سے اک امید قائم تھی کہ ترجمان شاید زندہ ہے۔ مگر آج اس کا آفیشل اعلان کردیا گیا۔ حذیفہ کی شہادت نے فلسطینی عوام سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید صدمہ اور غم پیدا کیا، مگر ساتھ ہی یہ مظہر بھی کہ حذیفہ کی جدوجہد، قربانی اور مزاحمتی روح زندہ رہی۔


ابو عبیدہ کی شہادت کے بعد بھی اس کا اثر ختم نہیں ہوا۔ اس کے بیانات، تقریریں اور مزاحمتی اصول آج بھی فلسطینی عوام کی رہنمائی کرتے ہیں۔ اس کی زندگی اور قربانی ایک مثال ہے کہ کیسے ایک شخص علم، عزم اور ایمان کے ساتھ قوم کی خدمت کر سکتا ہے۔


ابو عبیدہ صرف ایک مزاحمتی قائد یا میڈیا ترجمان نہیں تھا۔ وہ ایک علامت تھا، ایک مشعل تھا، ایک چراغ جو فلسطینی عوام کی امید اور عزم کی نمائندگی کرتا تھا۔ اس کی زندگی، تعلیم، مزاحمت اور شہادت ہر فلسطینی اور عرب کے دل میں زندہ رہے گی۔ حذیفہ کی دو دہائیوں پر مشتمل مزاحمتی زندگی کا نچوڑ یہ ہے کہ حقیقی قربانی اور قیادت خود کو نمایاں کرنے میں نہیں، بلکہ مقصد، قوم اور ایمان کے لیے کام کرنے میں ہے۔ ابو عبیدہ کی مثال ہمیشہ زندہ رہے گی اور اس کی قربانی فلسطینی قوم کی تاریخ میں ایک امر واقعہ کے طور پر محفوظ رہے گی۔ اب اگلے ترجمان کا نام بھی ابوعبیدہ ہی رکھا گیا ہے۔ ابو عبیدہ کا نام آج بھی زندہ ہے اور تا قیامت زندہ رہے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں