دو سوال انتہائی اہم ہیں اور انہی پر ایران کے تازہ قضیہ کو سمجھنے کا دار و مدار ہے: کیا امریکہ کو ایران پر خوفناک حملہ کرنے سے عرب ملکوں نے روک لیا؟ اور کیا امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو خود ایران کی طرف سے ملنے والی کسی بڑی ہزیمت کےامکان سے گھبرا گئے؟ اگر ان دونوں سوالوں کا یک سطری جواب مطلوب ہو تو جواب یہ ہے کہ ’ہاں! ایسا ہی ہے‘۔
یہ شاید معلوم تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ عرب ملکوں نے امریکہ پر واضح کردیا کہ وہ ایران پر حملہ کی نہ حمایت کریں گے اور نہ اسے تعاون دیں گے۔ مختلف رپورٹوں اور ماہرین کے تجزیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ سعودی عرب ‘قطر‘ اومان اور مصر نے مشترکہ سفارتی سطح پر امریکہ اور ایران سے رابطہ کیا اور اس سلسلہ میں 48 گھنٹے تک کام کیا۔ ان ملکوں نے ٹرمپ سے کہا کہ ایران کی نیوکلیر تنصیبات پر حملہ کرنا مناسب نہیں ہوگا اور اس سے خطہ کی سلامتی خطرہ میں پڑجائے گی۔ ان ملکوں کے مذاکرات کاروں نے ٹرمپ کو یہ بھی باور کرا دیا کہ اس سے خود ان کے ملکوں کی سلامتی بھی خطرہ میں پڑ جائے گی۔
فی الحال یہ طے کرنا مشکل ہے کہ عرب ملکوں نے یہ موقف کب اختیار کیا‘ کیا ایران کی اس دھمکی کے بعد کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو وہ خطہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کرے گا؟ یا پہلے سے ہی ان عرب ملکوں نے یہ پالیسی بنالی تھی؟ قطر کے بارے میں سمجھنا آسان ہے۔ قطر میں العدید میں امریکہ کا سب سے بڑا سینٹرل کمانڈ کا فوجی اڈہ ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں 23 جون 2025 کو ایران نے امریکہ کے ’ ایربیس‘ پر میزائل داغے تھے۔ یہ میزائل فی الواقع ایران پر اسرائیل کے جارحانہ حملوں اور ایران کی بعض اہم فوجی تنصیبات پر امریکہ کے حملوں کے جواب میں داغے گئے تھے۔ قطر نے گوکہ اس پر شدید احتجاج بھی کیا تھا تاہم ایران نے یہ واضح کردیا تھا کہ یہ حملے قطر کے خلاف نہیں تھے بلکہ امریکہ کے خلاف تھے۔ بعد میں نو ستمبر 2025 کو اسرائیل نے قطر میں موجود فلسطینی قیادت پر حملہ کیا تھا۔ یہ صورتحال قطر کیلئے انتہائی مشکل اور پریشان کن تھی۔ لہٰذا ایران پر امریکہ کے ممکنہ حملوں پر قطر کا پریشان ہونا فطری تھا۔
اومان کا امریکہ سے بھی دوستانہ رابطہ ہے اور ایران سے بھی۔ اسی لئے پچھلے برس اومان کی راجدھانی مسقط میں امریکہ اور ایران کے درمیان نیوکلیائی مذاکرات کے کئی دور منعقد ہوئے تھے۔ بعد میں جب اسرائیل نے حملہ کرکے ایرانی مذاکرات کاروں کو قتل کردیا تو ایران نے یہ مذاکرات معطل کردئے۔ عرب ملکوں پر یہ واضح ہوگیا کہ اسرائیل کسی بھی امن کی کوشش کو پسند نہیں کرتا اور وہ ہر حال میں ایران کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔
اس ضمن میں سعودی عرب کے کردار کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے سفارتی‘ معاشی اور سیاسی سطح پر ایک مختلف قسم کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ ان کی تمام پالیسیوں کا محور ان کا وژن 2030 ہے۔ اس کے تحت انہوں نے سعودی عرب میں ہمہ جہت تبدیلیاں کی ہیں اور ہر محاذ پر انقلابی لایحہ عمل بناکر کام کیا جارہاہے۔ اسی کڑی میں ایران سے سفارتی مراسم کی استواری بھی شامل ہے۔ اس پہلو کو مختصراً سمجھنا ضروری ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان جہاں طویل عرصہ تک مراسم اچھے رہے وہیں طویل عرصہ تک مراسم خراب بھی رہے۔ لیکن 10مارچ 2023 کو دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوگیا۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی اور معاشی تعلقات کی بحالی کا یہ معاہدہ ایک تاریخی معاہد ہ تھا۔
میں نے اسی وقت لکھا تھا کہ یہ معاہدہ بلاشبہ سعودی عرب کی فراخدلی اور ایران کی اعلی ظرفی کا مظہر ہے۔ اس معاہدہ پر اقوام متحدہ سمیت بہت سے ممالک نے فرحت و اطمینان کا اظہار کیا ۔ یہاں تک کہ امریکہ نے بھی ‘ محتاط الفاظ میں ہی سہی‘ معاہدہ پر مثبت ردعمل ظاہر کیا۔ پوری دنیا میں صرف ایک ملک اسرائیل ہی ایسا تھا جس نے اس معاہدہ کو نہ صرف یہ کہ پسند نہیں کیا بلکہ اس کے خلاف انتہائی جارحانہ انداز میں ردعمل ظاہر کیا ۔ عالمی سیاست کے تناظر میں اس معاہدہ کا سب سے بڑا اثر یہ ہوا کہ مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر مسلم ممالک میں امریکہ کے سیاسی اور عسکری غلبہ کو خطرہ لاحق ہوگیا چونکہ یہ معاہدہ چین کی کوششوں سے ممکن ہوا تھا۔
یہ سمجھنے میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ سعودی عرب اور ایران کے اختلافات کی شدت سے یہ ضرور لگنے لگا تھا کہ دونوں کے درمیان رشتوں کی استواری بہت مشکل ترین امر ہے۔ ایسے میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان رشتوں کی استواری ایک بہت بڑا تاریخی قدم تھا۔ مبصرین کا خیال تھا کہ سعودی عرب نے یہ معاہدہ صرف اپنی سیاسی بصیرت کا لوہا منوانے کیلئے نہیں کیا بلکہ ملک بھر میں جاری جدید فکر کی حامل معاشی اور سماجی اصلاحات اس کی محرک بنیں۔ سعودی عرب کے وزیر مالیات نے کہا کہ ہم ایران میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سعودی عرب نے بارہا ایران کو ’برادر ملک‘ بھی قرار دیا۔ 15 مارچ 2023 کی اشاعت میں امریکی میگزین ’ٹائم‘ نے لکھا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان عراق اور اومان میں 2021 سے ہی مذاکرات جاری تھے۔ لیکن حیرت ہے کہ ان مذاکرات کی بھنک نہ امریکہ کو لگی اور نہ اسرائیل کو۔ لیکن جب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کا اعلان ہوا تو اسرائیل حیرت زدہ رہ گیا۔
ہمیں اس سلسلہ میں ابھی اطمینان کرنے کی کوئی عجلت نہیں ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اور خاص طور پر ٹرمپ اور نتن یاہو کا اب بھی کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ لیکن فوری طور پر جو صورتحال ہے اس پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب عرب ملکوں کی بصیرت اور ان کی ایران سے رابطوں کی مضبوط استواری کے سبب ہی ہے۔
ایران میں ہونے والے مظاہروں کا ذکر بھی ضروری ہے۔ بلاشبہ یہ مظاہرے جائز اور واجب اشوز پر مبنی تھے۔ وہاں کے عوام کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ غربت اور بے روزگاری بھی عروج پر ہے۔ لہٰذا احتجاجی مظاہروں کو غلط نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ گوکہ ان مسائل میں بڑا ہاتھ ایران پر دہائیوں سے عاید عالمی پابندیوں کا ہے لیکن بہرحال ان مسائل کو حل کرنے میں ایران کی سیاسی قیادت ناکام رہی ہے۔ اس کا اعتراف تو خود وہاں کی اعلیٰ مذہبی قیادت نے بھی کیا ہے۔ خود رہبر اعلی خامنہ ای نے بھی کہا تھا کہ مظاہرین کے معاشی مطالبات جائز ہیں۔
لیکن پھر اچانک ان مظاہروں کا رخ معاشی امور سے سیاسی امور کی طرف کیسے مڑ گیا؟ اس کا جواب حاصل کرنا مشکل نہیں ہے۔ خود اسرائیل کے سفارتی‘سیاسی اور صحافتی حلقوں نے تسلیم کرلیا ہے کہ ایران کے پرتشدد مظاہروں کو فروغ دینے میں اسرائیل کا بڑا کردار تھا۔ الجزیرہ نے بھی ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے جس میں تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے کہ اسرائیل نے کن کن محاذوں پر ایران میں دراندازی کی اور اس کے ایجنٹ وہاں ہر قسم کی ہلاکت خیز کمک پہنچانے میں کامیاب رہے۔ اسرائیل اس سلسلہ میں انتہائی پُرجوش تھا اور اس نے ایران کی حکومت کے خاتمہ کی صورت میں ایران کا انتظام سنبھالنے کیلئے سابق آمر رضا شاہ پہلوی کے بیٹے کو بھی آگے بڑھانا شروع کردیا تھا۔ لہٰذا جنگ ٹل جانے کی خبر اسرائیل کیلئے کسی سوہان روح سے کم نہیں ہے۔
ادھر ایران نے بھی جس طرح سختی اور استقامت کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیوں اور منصوبوں کا مقابلہ کیا اس نے بھی دنیا کو حیرت زدہ کردیا۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ پچھلے سال ایران اسرائیل جنگ کے دوران ایران جس قسم کی فضائی قوت کے اعتبار سے کمزور تھا ویسا اب نہیں ہے۔ اس وقت اس کے پاس جنگی جہاز نہیں تھے۔ لیکن اب سنا ہے کہ روس اور چین کی مدد سے اس نے کچھ جنگی جہاز حاصل کرلئے ہیں۔ اس نے اپنے میزائل اور ڈرون کی صلاحیتوں میں بھی خاصا اضافہ کیا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران اس کے میزائلوں نے ویسے ہی اسرائیل کو خوفزدہ کردیا تھا۔ ایران نے اندرون اسرائیل بڑے پیمانے پر تباہی مچادی تھی۔ اب سناہے کہ اس نے تمام تر پابندیوں اور امریکی حملوں کے باوجود اپنی نیوکلیائی صلاحیت میں بھی اضافہ کرلیا ہے۔ اسی لئے ایران کی قیادت نے دھمکی دی تھی کہ امریکہ اور اسرائیل کو ہماری طرف سے حیران کن ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بعض رپورٹیں بتاتی ہیں کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی اس حد تک کرلی ہے کہ جب اسے ضرورت پڑے گی تو وہ چند دنوں یا گھنٹوں میں محدود طاقت کا جوہری بم بنا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب خبریں امریکہ اور اسرائیل بھی پہنچی ہوں گی۔ لہٰذا ان حقائق نے بھی امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے سے باز رکھا ۔ پھر عربوں نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ تیل کے بازار میں بھی اتھل پتھل مچ جائے گی‘امریکی افواج کے اڈے بھی زد میں آجائیں گے جو بحرین‘ قطر‘ کویت‘ متحدہ عرب امارات‘ اردن اور عراق میں واقع ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں بھی چھوٹے پیمانے کا اڈہ اور افواج کی موجودگی ہے‘ یہ ملک اسٹریٹجی کے اعتبار سے امریکہ کیلئے بہت اہم ملک ہے۔ سوچ کر دیکھئے کہ اگر عرب ملکوں نے امریکہ کو واضح طور پر پیغام دینے کی یہ پالیسی اب سے دو تین اور چار دہائیوں پہلے اختیار کی ہوتی تو آج عرب ممالک اور عالم اسلام کی ہی بالادستی ہوتی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ عالم اسلام اسی حکمت‘ تدبر اور بصیرت کے تحت متحد ہوجائے۔۔
اس قضیہ کے بہت سے پہلو ابھی باقی ہیں لیکن ایک پہلو کو سمجھنا ایران کی ٹکنالوجی کی صلاحیت کو سمجھنے کیلئے بہت ضروری ہے۔ یہ تو سب کو معلوم ہوگا کہ امریکہ کے کھرب پتی تاجر ایلون مسک نے اسٹار لنک کے ذریعہ دنیا میں کہیں بھی کسی روکاوٹ کے بغیر انٹرنیٹ پہنچانے میں کامیابی حاصل کرلی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ جنگ کے دوران اس نے غزہ میں بھی چینلوں کو انٹرنیٹ پہنچایا تھا جس کا اسرائیل توڑ نہیں کرسکا۔ اسی طرح یوکرین میں بھی پہنچایا تھا اور روس اس کا توڑ نہیں کرسکا۔ لیکن جب مظاہروں کے دوران اسرائیل کی سرگرم شمولیت کے سبب ایران نے ملک بھر میں انٹرنیٹ پر پابندی لگادی تو ایلون مسک نے اپنا اسٹار لنک ایران میں بھی پہنچا دیا۔ اب اطلاع آئی ہے کہ ایران نے 80 فیصد تک اس کا توڑ کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ ہرچند کہ اس میں روس اور چین نے اپنی ٹکنالوجی فراہم کی لیکن یہ بات اہم ہے کہ اس محاذ پر مسک کو ایران جیسے ملک نے شکست دیدی۔
رپورٹس بتاتی ہیں کہ اندرون ملک ایران کی مذہبی قیادت کےخلاف مظاہروں پر اکسانے کیلئے مختلف محاذ استعمال کئے گئے۔ ’فری فلسطین ‘ کی طرز پر سوشل میڈیا اور خاص طور پر ایکس (سابق ٹویٹر) پر’ فری ایران ہیش ٹیگ‘ اور’فری دی پرشین پیوپل‘ پر مبنی ٹرینڈ چلائے گئے۔ یہ مہم دراصل ایران کے اندر سے شروع نہیں کی گئی بلکہ اس ٹرینڈ (ایکس پر چلنے والے رجحان) کو ایران کے باہر اور خاص طور پر اسرائیل اور اس کے خیر خواہ حلقوں کے اکاؤنٹس سے چلایا گیا۔ اس اعتبار سے اسرائیل کو بھی ایک زخم کاری ملا ہے۔ ۔ اسرائیل اپنی بقاء کیلئے ایران کو ایک مستقل خطرہ کے طور پر دیکھتا ہے۔۔ امریکہ اسے اس خطرہ سے مستقل طور پر بچانا چاہتا ہے۔۔ لہذا موجودہ پُر سکون صورتحال کو مستقل سمجھنا ایک بڑی غلطی ہوگی۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں