وینزویلا کے رہنما نکولاس مادورو کی گرفتاری کو تہران میں قریب سے دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کو خدشہ ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائی کر سکتا ہے، جبکہ ملک بھر میں جاری مظاہرے حکومت پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق وینزویلا میں امریکہ کی غیر معمولی فوجی کارروائی اور نکولاس مادورو کی گرفتاری نے ایران کی قیادت کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ تہران مادورو کا سب سے قریبی اتحادی ہے۔ اس حیران کن مداخلت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کی حکومت دشمن حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے مزید فوجی اقدامات استعمال کرنے کو بھی تیار ہے، جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ مادورو کا زوال وینزویلا اور خطے کے استحکام کے لیے خدشات پیدا کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وینزویلا میں سیاسی پیش رفت ایران کے لیے ایک نازک وقت میں سامنے آئی ہے۔ ایران بھر میں ایک ہفتے سے زائد عرصے سے مظاہرے جاری ہیں، جو آسمان کو چھوتی قیمتوں اور کمزور معیشت کی وجہ سے شروع ہوئے۔ مظاہرین سماجی، معاشی اور سیاسی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو تہران کی قیادت پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ نے ایران کو تازہ دھمکی دی ہے کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو حملہ کیا جائے گا۔ اتوار کو ایئر فورس ون پر واشنگٹن واپسی کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ مظاہروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ تفصیلات دستیاب نہیں کہ امریکہ ایران کے خلاف کون سے اقدامات پر غور کر رہا ہے؟
تاہم بین الاقوامی سیاست کے تجزیہ کار اور نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں انسٹی ٹیوٹ فار جیوپولیٹکس کے محقق ڈیمن گولریز کے مطابق ایران کو پیغام مل رہا ہے۔ تہران جانتا ہے کہ اس کی سیاسی قیادت امریکی فوجی ہدف بن سکتی ہے۔گولریز مادورو کی گرفتاری کو ٹرمپ کی پالیسی میں تبدیلی کا حصہ سمجھتے ہیں۔
گزشتہ موسم گرما میں امریکی صدر ایسے اسرائیلی منصوبوں کی حمایت کرنے میں ہچکچاہٹ دکھا رہے تھے، جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کے دیگر فوجی رہنماؤں کو نشانہ بنانا شامل تھا۔ ڈیمن گولریز کے مطابق اب صورت حال بدل سکتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں