صلاح الدین ایوبی صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہواہی تھا کہ دربان نے اطلاع دی کہ علی بن سفیان آیاہے ۔ سلطان دوڑ کر باہر نکلا۔ اس کے منہ سے علی بن سفیان کے سلام کے جواب سے پہلے یہ الفاظ نکلے ……''اُدھر کی کیا خبر ہے ؟''
''ابھی تک خیریت ہے ''……علی بن سفیان نے جواب دیا ……''مگر سوڈانی لشکر میں بے اطمینانی بڑھتی جارہی ہے ۔میں نے اس لشکر میں اپنے جو مخبر چھوڑے تھے ، ان کی اطلاعوں سے پتہ چلتاہے کہ ان کے ایک بھی کماندار نے قیادت سنبھال لی تو بغاوت ہوجائے گی ۔'' صلاح الدین ایوبی اسے اپنے خیمے میں لے گیا۔علی بن سفیان کہہ رہاتھا……''ناجی اور اس کے سرکردہ سالاروں کو تو ہم نے ختم کردیا ہے ، لیکن وہ مصری فوج کے خلاف سوڈانیوں میں نفرت کا جوزہر پھیلا گئے تھے ، اس کا اثر ذرہ بھر کم نہیں ہوا۔ ان کی بے اطمینانی کی دوسری وجہ اُن کے سالاروں کی گمشدگی ہے ۔ میں نے اپنے مخبروں کی زبانی یہ خبر مشہور کرادی ہے کہ اُن کے سالار بحیرۂ روم کے محاذ پر گئے ہوئے ہیں ، مگر امیرِ محترم !مجھے شک ہوتاہے کہ سوڈانیوں میں شکوک اور شبہات پائے جاتے ہیں ۔ جیسے انہیں علم ہوگیاہے کہ ان کے سالاروں کو قید کرلیاگیاہے اور مار بھی دیاگیاہے ''۔ ''اگر بغاوت ہوگئی تو مصر میں ہمارے جو دستے ہیں ، وہ اسے دباسکیں گے؟''۔صلاح الدین ایوبی نے پوچھا……''کیا وہ پچاس ہزار تجربہ کار فوج کا مقابلہ کر سکیں گے ؟……مجھے شک ہے ''۔ ''مجھے یقین ہے کہ ہماری قلیل فوج سوڈانیوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گی ''۔علی بن سفیان نے کہا……''میں اس کا بندوبست کر آیاہوں ۔میں نے عالی مقام نور الدین زنگی کی طرف دو تیز رفتار قاصد بھیج دئیے ہیں ۔ میں نے پیغام بھیجا ہے کہ مصر میں بغاوت کی فضا پیدا ہورہی ہے اور ہم نے جو فوج تیار کی ہے ، وہ تھوڑی ہے اور اس میں سے آدھی فوج محاذ پر ہے ۔ متوقعہ بغاوت کو دبانے کے لیے ہمیں کمک بھیجی جائے ''۔ ''مجھے اُدھر سے کمک کی اُمید کم ہے ''۔سلطان ایوبی نے کہا……''پر سوں ایک قاصد یہ خبر لایاتھا کہ زنگی نے فرینکوں پر حملہ کردیا تھا۔ یہ حملہ انہوں نے ہماری مدد کے لیے کیا تھا۔ فرینکوں کے اُمراء اور فوجی قائدین بحیرۂ روم میں صلیبیوں کے اتحادی بیڑے میں تھے اور فرینکوں کی کچھ فوج مصر میں داخل ہوکر عقب سے حملہ کرنے اور ہمارے سوڈانی لشکر کی پشت پناہی کے لیے مصر کی سرحد پر آگئی تھی ۔ محترم زنگی نے ان کے ملک پر حملہ کر کے اُن کے سارے منصوبے کو ایک ہی وار میں برباد کردیاہے اور شاہ فرینک کے بہت سے علاقے پر قبضہ کرلیا ہے ۔ انہوں نے صلیبیوں سے کچھ رقم بھی وصول کی ہے ''۔ صلاح الدین ایوبی خیمے کے اندر ٹہلنے لگا۔ جژباتی لیجے میں بولا……''سلطان زنگی کے قاصد کی زبانی وہاں کے کچھ ایسے حالات معلوم ہوئے ہیں جنہوں نے مجھے پریشان کررکھا ہے ''۔ ''کیا اب صلیبی اُدھر یلغار کریں گے ؟''علی بن سفیان نے پوچھا ۔
''مجھے صلیبیوں کی یلغار کی ذرہ بھر پروا نہیں ''۔ سلطان ایوبی نے جواب دیا……''پریشانی یہ ہے کہ کفار کی یلغار کو روکنے والے شراب کے مٹکوں میں ڈوب گئے ہیں ۔اسلام کے قلعے کے پاسبان حرم میں قید ہوگئے ہیں۔عورت کی زلفوں نے انہیں پابہ زنجیر کردیاہے ۔ علی !چچا اسد الدین شیر کوہ کو اسلام کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکے گی۔ کاش وہ آج زندہ ہوتے ۔ میدانِ جنگ میں مجھے وہی لائے تھے ۔ ہم نے دستے کی کمان کی ہے ۔ میں اُن کے ساتھ صلیبیوں محاصرے میں تین مہینے رہاہوں ۔ مجھے شیر کوہ ہمیشہ سبق دیا کرتے تھے کہ گھبراہٹ اور خوف سے بچنا۔ تائید ایزدی اور رضائے الٰہی کا قائل رہنا اور اسلام کا علم بلند رکھنا ۔ میں شیر کوہ کی کمان میں مصریوں اور صلیبیوں کی مشترک فوج کے خلاف بھی لڑاہوں ۔ سکندر یہ میں محاصرے میں رہاہوں ۔شکست میرے سر پر آگئی تھی ۔ میرے مٹھی بھر عسکری بددِل ہوتے جارہے تھے ۔ میں نے کس طرح اُن کے حوصلے اور جذبے تروتازہ رکھے ؟یہ میراخداہی بہتر جانتا ہے ۔ تاآنکہ چچا شیر کوہ نے حملہ آور ہوکر محاصرہ توڑا……تم یہ کہانی اچھی طرح جانتے ہو۔ ایمان فروشوں نے کفار کے ساتھ مل کر ہمارے لیے کیسے کیسے طوفان کھڑے کیے ، مگر میں گھبرایا نہیں ۔ دِل نہیں چھوڑا''۔ ''مجھے سب کچھ یاد ہے سلطان !''……علی بن سفیان نے کہا……''اس قدر معرکہ آرائیوں اور قتل و غارت کے بعد توقع تھی کہ مصری راہِ راست پر آجائیں گے ، مگر ایک غدار مرتاہے تو ایک اور اس کی جگہ لے لیتا ہے ۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ غدار کمزور خلافت کی پیداوار ہوتے ہیں ۔ اگر فاطمی خلافت حرم میں گم نہ ہوجاتی تو آج آپ صلیبیوں سے یورپ میں لڑرہے ہوتے ، مگر ہمارے غدار بھائی انہیں سلطنتِ اسلامیہ سے باہرنہیں جانے دے رہے ۔ جب بادشاہ عیش و عشرت میں پڑجائیں تو رعایا میں سے بھی کچھ لوگ بادشاہی کے خواب دیکھنے لگتے ہیں ۔ وہ کفار کی طاقت اور مدد حاصل کرتے ہیں ۔ ایمان فروشی میں وہ اس قدر اندھے ہوجاتے ہیں کہ کفار کے عزائم اور اپی بیٹیوں کی عصمتوں تک کو بھلادیتے ہیں ''۔ '' مجھے ہمیشہ انہی لوگوں سے ڈرآتاہے ''۔ صلاح الدین ایوبی نے کہا۔''اللہ نہ کرے ، اسلام کانام جب بھی ڈوبا مسلمانوں کے ہاتھوں سے ڈوبے گا۔ ہماری تاریخ غداروں کی تاریخ بنتی جارہی ہے ۔ یہ رجحان بتارہاہے کہ ایک روزمسلمان جو برائے نام مسلمان ہوں گے ، اپنی سرزمین کفار کے حوالے کردیں گے ۔ اگر اسلام کہیں زندہ رہاتو وہاں مسجدیں کم اور قحبہ خانے زیادہ ہوں گے ۔ ہماری بیٹیاں صلیبیوں کی طرح بال کھلے چھوڑ کر بے حیا ہوجائیں گی ۔ کفار انہیں اسی راستے پر ڈال رہے ہیں ،بلکہ ڈال چکے ہیں ……اب مصر سے پھر وہی طوفان اُٹھ رہاہے ۔ علی !تم اپنے محکمے کو اور مضبوط اور وسیع کرلو۔ میں نے اپنے رفیقوں سے کہہ دیاہے کہ دشمن کے علاقوں میں جاکر شبخون مارنے اور خبریں لانے کے لیے تنو مند اور ذہین جوانوں کا انتخاب کرو۔ صلیبی اس محاذ کو مضبوط اور پُر اثر بنارہے ہیں ، تم فوری طور پر جاسوسی کرو، جنگ کی تیاری کرو……فوری طور پر کرنے والا کام یہ ہے کہ سمندرسے کئی ایک صلیبی بچ کر نکلے ہیں۔ ان میں زیادہ تر زخمی ہیں اور جو زخمی نہیں ، وہ کئی کئی دِن سمندر میں ڈوبنے اور تیر نے کی وجہ سے زخمیوں سے بد تر ہیں ۔ ان سب کا علاج معالجہ ہورہاہے ۔میں نے سب کو دیکھا ہے ، تم بھی انہیں دیکھ لو اور اپنی ضرورت کے مطابق ان سے معلومات حاصل کرو''۔
سلطان ایوبی نے دربان کو بلا کرنا شتے کے لیے کہا اور علی بن سفیان سے کہا……''کل کچھ زخمی اور کچھ بھلی لڑکیاں میرے سامنے لائی گئی تھیں ۔ چھ تو سمندر سے نکلے ہوئے قیدی ہیں ۔ ان میں ایک پر مجھے شک ہے کہ وہ سپاہی نہیں ۔رتبے اور عہدے والا آدمی ہے ۔ سب سے پہلے اسے ملو، پانچ تاجر سات عیسائی لڑکیوں کو ساتھ لائے تھے''……اس نے علی بن سفیان کو لڑکیوں کے متعلق وہی کچھ بتایا جو تاجروں نے بتایاتھا۔ سلطان ایوبی نے کہا……''میں نے لڑکیوں کو دراصل حراست میں لیا ہے ، لیکن انہیں بتایا ہے کہ میں انہیں پناہ میں لے رہاہوں۔لڑکیوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ غریب گھرانوں کی لڑکیاہیں اور پھر ان کا یہ بیان کہ انہیں ایک جلتے ہوئے جہاز میں سے کشتی میں بٹھا کر سمندر میں اُتارا گیا اور کشتی انہیں ساحل پر لے آئی ۔ مجھے شکوک میں ڈال رہاہے ۔ میں نے انہیں الگ خیمے میں رکھا ہے اور سنتری کھڑا کر دیاہے ۔ تم ناشتے کے فوراً بعد اس قیدی اور ان لڑکیوں کو دیکھو''۔
آ خر میں صلاح الدین ایوبی نے مُسکراکر کہا……''کل دِن کے وقت ساحل پر ٹہلتے ہوئے مجھ پر ایک تیر چلایا گیاتھا، جو میرے پائوں کے درمیان ریت میں لگا''……اس نے تیر علی بن سفیان کو دے کر کہا ……''علا قہ چٹانی تھا۔ محافظ تلاش اور تعاقب کے لیے بہت دوڑے ، مگر انہیں کوئی تیر انداز نظر نہیں آیا۔ اس علاقے سے انہیں یہ پانچ تاجر ملے ، جنہیں محافظ میرے پاس لے آئے ۔ انہوں نے یہ سات لڑکیا بھی میرے حوالے کیں اور چلے گئے ''۔
''اور وہ چلے گئے ؟''علی بن سفیان نے حیرت سے کہا……''آپ نے انہیں جانے کی اجازت دے دی ؟''
''محافظون نے ان کے سامان کی تلاشی لی تھی ''… سلطان ایوبی نے کہا……''اُن سے ایسی کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی جس سے اُن پر شک ہوتا''۔
علی بن سفیان تیر کو غور سے دیکھتا رہا اور بولا……''سلطان اور سراغ رساں کی نظر میں بڑا فرق ہو تاہے ۔ میں سب سے پہلے ان تاجروں کو پکڑنے کی کوشش کروں گا''۔
علی بن سفیان صلاح الدین ایوبی کے خیمے سے باہر نکلا تو دربان نے اسے کہا ……''یہ کمان دار اطلاع لایا ہے کہ کل سات عیسائی لڑکیاں قید میں آئی تھیں ۔اُن میں سے ایک لاپتہ ہے ۔کیا سلطان کو یہ اطلاع دینا ضروری ہے ؟۔یہ کوئی اہم واقعہ تو نہیں کہ سلطان کو پریشان کیا جائے ''۔
جاری ھے ،

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں